21 اگست 2014 - 06:14
عراق، حکومت کی تشکیل کی کوششیں تیز

عراق کی نیشنل الائنس کے سربراہ ابراہیم الجعفری نے اس ملک کے سابق وزیر خارجہ ہوشیار زيباري سے ملاقات میں کابینہ کی تشکیل کے عمل پر تبادلہ خیال کیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں دونوں فریق نے سیاسی و سیکورٹی اور ان مسائل کا جائزہ لیا جو عراق میں تكفيري دہشت گروہ داعش کے قبضے والے علاقوں میں لوگوں کے بے گھر ہونے سے پیدا ہوئے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق ابراہیم الجعفری اور ہوشیار زيباري نے اسی طرح قومی جذبے اور حکومتی منصوبے پر مبنی کابینہ کی تشکیل میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا۔

دوسری جانب الدعوۃ پارٹی کے ایک رہنما وليد الحلي نے ایک مؤثر قومی آشتی کی حکومت کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سیاستدانوں سے عراق میں سیاسی عمل کو بہتر بنانے کے لئے اپنے اپنے منصوبے پیش کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے اسی طرح عراق کی مرکزی حکومت کی جانب سے عراقی كردستان کو دی گئی مدد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کے مقابلہ میں متحد فوج کی ضرورت ہے۔
در ایں اثنا عراق کے سابق وزیر خارجہ ہوشیار زيباري نے دہشت گروہ داعش سے نمٹنے کے لئے دنیا کے تمام ممالک سے عراق کی حمایت کرنے کی اپیل کی۔
خبر رساں ایجنسی بغداد کے مطابق ہوشیار زيباري نے بدھ کو شام میں ایک غیر ملکی صحافی کے داعش کے دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جانے کی ویڈیو کلپ کے نشرکئے جانے پر ردعمل میں، دنیا کے ممالک سے تكفيري دہشت گروہ داعش کے خلاف عراق اور شام کی حمایت کرنے کی اپیل کی۔
اس درمیان ایک اور رپورٹ کے مطابق عراقی فوج نے تكريت شہر کے بہت سے علاقوں کو داعش کے دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرا لیا ہے۔
العالم ٹی وی چینل کے مطابق عراقی فوج نے تكريت کی صوبائی کونسل کی عمارت، كیڈٹ کالج، الاربعین، شيشين اور الديوم علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا اور سیکڑوں فوجیوں کو تكريت کے بازاروں اور راستوں میں تعینات کر دیا ہے۔

.......

/169